ابنا: وائٹ ہاؤس سے ٹیلی ویژن پر منگل کی دیر رات اپنے ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے لئے واضح طور سے شام کی حکومت ہی ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ شام کو اس کے کیمیائی ہتھیار تباہ کرنے کے لئے راضی کرنے کی روس کی تجویز پر امریکہ کام کرے گا ، لیکن سفارت کاری، ناکام ہونے کی صورت کے لئے طاقت کے استعمال کا خوف بھی بنائے رکھے گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ خود یہ مانتے ہیں کہ طاقت کے استعمال سے شام کی خانہ جنگی ختم نہیں کی جا سکتی۔ اوباما نے کہا کہ روس کی طرف سے تجویز کردہ راستہ فوجی کارروائی کا اچھا متبادل ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی سے یہ کہنا جلد بازی ہوگی کہ یہ کامیاب ہوگا یا نہیں۔کل امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اس بیان کے بعد کہ شام اگر اپنے کیمیائی ہتھیار تباہ کر دیتا ہے ، تو وہ امریکی حملے سے بچ سکتا ہے ، روس نے پہل کرتے ہوئے تجویز پیش کی تھی کہ شام کو کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی برادری کے حوالے کرنے پر راضی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد شام کا بھی بیان آیا کہ وہ اس کے لئے تیار ہے۔قابل ذکر ہے کہ شام ہمیشہ اس بات کی تندید کرتا آیا ہے کہ کیمیائی ہتھیا اس نے استعمال کئے ہیں۔......./169
10 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461818
امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ بھلے ہی شام کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی برادری کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہو گیا ہو ، لیکن اس پر حملے کا دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے۔